HUSAIN SAHIL / DIVKER

HUSAIN SAHIL   /  DIVKER
BE GOOD ! DO GOOD !!

Monday, February 6, 2023

12 TH INTER COLLEGE DRAMA COMPETITION

ایکٹ  کا 12واں انٹر کالج ڈراموں کا شاندار مقابلہ

مہاراشٹر کالج ممبٸی اول انعام سے سرفراز












بھیونڈی  رپورٹ محمد حسین ساحل

آرٹس کرٸیٹیو تھیٹر اور عرفان برڈی توصیفی کمیٹی کے اشتراک سے گزشتہ دنوں  جی ایم مومن وٸمینس کالج ، بھیونڈی میں شام 5 بجے12 واں  انٹر کالج ڈرامہ مقابلے منعقد کیے گے۔  






جس میں درج ڈرامہ پیش کیے گٸے : مہاراشٹر کالج ، ممبٸی :   پاٸنٹ آف ریٹرن، یہ ایک ایسے اپاہج خاتون کی کہانی ہے جو اس کے حوصلے کی ترجمانی کرتی ہے جس کا ایک پیر کٹا ہوا تھا مگر اس کا حوصلہ مکمل تھا، وہ اس کے باوجود ایوریسٹ کی بلندیوں کو چھوتی ہے۔حوصلہ ہی سے منزل کا پتہ ملتا ہے۔








صمدیہ جونٸیر کالج ،بھیونڈی : تلاش
عورتوں پر ظلم اور ان کے خود کے وجود کی تلاش کی کہانی ہے۔
الحمد ہاٸی اسکول،بھیونڈی  : انسپکٹر جنرل ڈرامہ میں ایک ایسے بہروپیہ کی کہانی ہے جو سرکاری اور نیم سرکاری
عہدیداروں پر اپنی دھونس جما کر روپیے اینٹھتا ہے











صلاح الدین ایوبی ہاٸی اسکول ، بھیونڈی : نشہ کا ناش جس میں نشہ کی لت جو سماج میں پنپ رہی ہے اس کی عکاسی کی گٸی اور سماج سے اس براٸی کا سدباب کرنے کا پیغام دیا جا رہا ہے اور والدین کو بھی باخبر کیا جارہا کہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھی جاٸے۔







اے آر انتولے،گورنمنٹ لا کالج ، ممبٸی : سوٹ کیس، اس ڈرامہ میں یہ بتایا گیا ہے   






کہ بُرا یا غلط کرنے کے لیے جواز نہیں، اس کے لئے صرف ایک منفی سوچ یا غلط سوچ ہی کافی ہوتی ہے۔ ایسے گناہ جو بغیر کسی وجہ سے بھی ہوتے رہے ہیں اور معصوم لوگ اس کا شکار بنے رہتے ہیں۔
مہمانان خصوصی : جناب قاضی مشتاق احمد ۔۔۔پروگرام میں قاضی مشتاق صاحب کی موجودگی نے اس پروگرام کو تاریخی حیثیت بخشی۔
مجیب خان جنھوں نے پریم چند پر 300 سے زاٸد ڈرامہ اسٹیج کیے جس کے اعتراف میں ان کا نام لیمکا بک آف ریکارڈ
میں درج کیا گیا ہے۔ اسٹیج پر ان کی موجودگی نہ صرف رونق بخشتی ہے بلکہ ناظرین کے ذہنوں کو بیدار کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔انھوں نے بھیونڈی میں انٹر کالیجیٹ ڈرامہ کامپیٹشن کی تاریخ پر روشنی ڈالی جس کی شروعات بی این این کالج سے ہوتی ہے اور کن حالات میں وہ مقابلے ہوا کرتے تھے آج ساری سہولتیں مہیا ہیں اگر کمی ہے تو ڈرامے کرنے والوں کی۔  مزید اس بات پر روشنی ڈالی کے ہم نے کبھی بھی جیت ہار پر نہیں سوچا ہم نے اپنی ہار میں اپنی غلطیاں تلاش کی اور جیتنے والے ڈرامے میں خوبیاں اس سے یہ فائدہ ہوا کے ہم میں فرسٹیشن نہیں آیا یہ ہی سوچ تھی جس نے آج تک اس میدان میں قائم رکھا ہے منفی سوچ نا صرف ہماری صلاحیتوں کا خاتمہ کرتی ہے بلکہ وہ ہماری صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ 





وحیدہ آپا (جج) نے بچوں کی پذیرائی کرتے ہوے کہا کے بچوں نے بہت محنت کی اتنے خوبصورت اور با مقصد ڈرامے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 
وندنا (جج) نے بھی پانچوں ڈرامے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
 حنیف پٹنی (جج) نے ہدایت کاروں اور فنکاروں کو اپنے مشوروں سے نوازا۔


















عرفان برڈی جنھوں نے نہ صرف 65 مختلف نوعیت کے پروگرام کرنے کا اعلان یا وعدہ کیا بلکہ 65 پروگرام  کو کامیابی سے ہمکنار بھی کیا جو بھیونڈی کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاٸے گا۔





اس پروگرام میں ایڈوکیٹ یاسین مومن  بھی موجود تھے۔ ان کی موجودگی  پروگرام کو ایک نٸی جِلا بخشتی ہے۔



افتتاح : بدست ایڈوکیٹ یاسین مومن 
جج حضرات : 1.  جناب حنیف پٹنی ،  
 پروفیسر وحیدہ مومن ، 2.  محترمہ وندنا گپتا
اول انعام : مہاراشٹر کالج، ممبٸی ڈرامہ کا نام: پاٸنٹ آف ریٹرن
دوم انعام : صمدیہ جونٸیر کالج ، بھیونڈی۔  ڈرامہ کا نام: تلاش
سوم انعام :اے آر انتولے،گورنمنٹ لا کالج ، ممبٸی :ڈرامہ کا نام: سوٹ کیس









بیسٹ راٸٹر انعام : عدنان سر کھوت (تلاش)
بیسٹ ایکٹر اینڈ ڈاٸریکٹر انعام : عدنان سر کھوت (پاٸنٹ آف ریٹرن)
بیسٹ اداکارہ : مریم شیخ
یہ انٹر کالج مقابلہ پروگرام ہر نقطہ نظر  سے کامیاب رہا۔




Friday, January 20, 2023

بزم مساوات کا شاندار گولڈن جوبلی جشن

 





بزم مساوات کا شاندار گولڈن جوبلی جشن 

 رونق افروز کی تصانیف جنون سخن اور شخص و عکس کا پٹاخوں کی گونج میں طلسماتی اجرا

Saturday, January 14, 2023

کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو

                  النکاح من سنتی              




( محمد حسین ساحل ممبٸی)
 
کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو اور عرفان برڈی توصیفی کمیٹی کی مشترکہ کاوش سے 8  شاندار  نکاح کا اہتمام 

کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو نے  سرپرست بن کر دلہنوں کو کیا رخصت

 




بھیونڈی : کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو اور عرفان برڈی توصیفی کمیٹی کے اشتراک سے بوبیرے ہال ، بھیونڈی میں اجتماعی شادی کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ نکاح سے قبل عرفان برڈی نے اجتماعی شادی کی غرض و غاٸیت پر روشنی ڈالتے ہوٸے کہا کہ نکاح کروا کر سماج کی حرام کاموں سے روک تھام کرنا ہے اور انھیں حلال کاموں پر آمادہ کرنا۔





سابق کارپوریٹر بابا بہاؤالدین نے اپنی تقریر میں کہا اجتماعی شادی کے انعقاد میں متفرق ممبران نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ نکاح کا اسٹیج سجایا ہے۔اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ان ممبران کو اس کا بہترین اجر عطا کرے۔





ڈاکٹر یحیحٰی قاضی نے اپنی پُرجوش اور پُر مغز تقریر میں کہا کہ دلہے اور اس کے گھر والوں نے دلہن سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے کہ دلہن اپنے اہل و اعیال کو چھوڑ کر دُلہے کے گھر آتی ہے۔





قاضی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلا نکاح  آدم علیہ السلام اور بنت حوّا کا جنت الفردوس میں کیا تھا۔ قاضی صاحب نے دلہا دلہن کو بھرپور دعاٶں سے نوازا اور اجتماعی شادی کے تمام منتظمین کو بھی دعاٶں سے نوازا۔




دلہا اور دلہن کے نام درج ذیل ہیں :

 ۔  عرشین اعجاز سالوے ہمراہ ارمان سلیم شیخ،



۔  مسکان اصغر خان ہمراہ محمد مستقیم محمد نظیر انصاری



۔  مہ جبین جاوید شیخ ہمراہ نواز حمید قریشی



۔  سکینہ صمد صدیقی ہمراہ نظام الدین اکرام الدین خان



۔  سعیدہ عبدالعزیز شیخ ہمراہ سلیم حکیم شیخ



۔  مصباح شفیق شیخ ہمراہ ریٸس علی نظام الدین انصاری



۔  اقرا آصف شیخ ہمراہ زویف  عبدالطیف شیخ



۔  شاھین احمداللہ شاہ ہمراہ فیصل شکیل انصاری



 کمیٹی نے دلہنوں کے ساتھ جہیز کا تمام ضروری سامان بھی دیا جیسے پلنگ، الماری، کیچن کا سامان ، دلہن کے شادی کا جوڑا اور دلہن کا بناٶ سنگھار  کے لیے شہر کی مشہور ومعروف بیوٹیشین کی خدمات طلب کی گٸی تھیں ، اس کے علاوہ دلہن اور دلہے کے رشتہ داروں کے طعام کا انتظام اور دلہے دلہن کو ڈھیر ساری دعاٸیں۔




تمام دلہوں کو تحفے میں ہاتھ گھڑی بھی پیش کی گٸی تاکہ انھیں وقت کا احساس ہو اور اپنی زندگی کو مزید خوشحال بنا سکیں۔







وہ سماں بھی دیکھنے جیسا تھا جب دلہن ہاتھ میں قرآن تھامے عرفان برڈی کی خدمت میں سلام پیش کرکے رخصتی لے رہی تھی گویا کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو ایک سرپرست کی طرح اپنی بیٹیوں کو رخصت کر رہا ہو اور عرفان برڈی کی آنکھوں سے اشک جاری تھے جو ہر دُلہن کو اپنی زندگی خوش و خرم گزارنے کی ہدایت بھی دے رہے تھے۔

GROUP OF TAUSEEFI COMMITTEE     



اس تقریب نکاح میں توصیفی کمیٹی اور 

کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو کے  بیشتر ممبران نے شرکت کی ۔ نکاح کی تقریب ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔





Friday, January 13, 2023

لڑکیوں کے نکاح سے والدین لا پرواہ کیوں ؟

محمد حسین ساحل

ممبٸی


 لڑکیوں کے نکاح سے والدین لا پرواہ  کیوں ؟





ایجاب و قبول‘‘کے مخصوص الفاظ کے ذریعہ مرد وعورت کے درمیان ایک خاص قسم کا دائمی تعلق اور رشتہ قائم کرنا نکاح کہلاتا ہے، جو دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے صرف دو لفظوں کی ادائیگی سے منعقد ہوجاتا ہے۔


نکاح انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ مرد ہو یا عورت زندگی ادھوری رہتی ہے۔ جب تک کہ وہ نکاح کے بندھن میں نہ بندھ جائیں۔ یہ بڑا پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیداکیا اور اُن ہی سے اُن کا جوڑا حضرت حوا کو بنایا۔ اس طرح شوہر اور بیوی کا یہ پہلا انسانی رشتہ وجود میں آیا۔ باقی سارے رشتے ماں باپ، بیٹابیٹی، بھائی بہن و دیگر رشتے داریاں بعد میں وجود میں آئی ہیں۔


اسلامی یا شرعی نقطہ نظر  سے نکاح آسان ہے مگر ہماری سوچ و فکر نے نکاح سے قبل کی تمام تر مراحل کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔




نکاح کا اوّلین مقصد ایک ایک مرد اور عورت کے اخلاق کی حفاظت اور پورے معاشرے کو بگاڑ و فساد سے بچانا ہے۔


اسلام میں نکاح سے متعلق ہر بات جب واضح کردی ہے اس کے باوجود ہماری لڑکیاں بے راہ روی  کا شکار  کیوں ہیں۔


سرکاری میریج رجسٹرڈ دفتر میں اگر ہم جاتے ہیں تو ان گنت مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے کے لٸے اپنا نام رجسٹر کر رہی ہیں، جس کی ان کے ماں باپ کو خبر تک نہیں : جس کی بیشمار وجوہات ہیں :





١۔  ماں باپ اپنی ٢٠ سالہ لڑکی کو چھوٹی سمجھتی ہے کہ ابھی میری لاڈلی چھوٹی ہے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ، ابھی کھیل کود کی عمر ہے، ابھی پڑھاٸی کرنا ہے۔ابھی تک تو ہماری شادی کی تیاری نہیں ہے۔ ابھی جہیز جمع کرنا باقی ہے وغیرہ وغیرہ


٢۔  کسی لڑکی کو رشتے کا پیغام آجاٸے تو لڑکی کے ماں باپ  لڑکے والوں کو سوال کرتے ہیں :لڑکا کیا کرتا ہے ؟لڑکے والے جواب دیتے ہیں وہ نوکری کرتا ہے تو فوراً  جواب ملتا ہے ہم کو نوکری والے کو نہیں دینا۔ 


٣۔ ایک لڑکی کو رشتہ آیا ،لڑکے والوں سے لڑکی والوں نے پوچھا لڑکا کیا کرتا ہے بولے اس کا ایکسپورٹ کا کاروبا ہے، خلیجی ممالک میں باسمتی چاول سپلاٸی کرتا ہے ، پنج وقتہ نمازی ہے۔لڑکی والے نے دوسرا سوال پوچھا اس کا مسلک کیا ہے؟ لڑکے والے نے جواب دیا اہل حدیث ہے۔نہیں نہیں اہلحدیث کو ہم لڑکی نہیں دیں گے۔۔ہم ٹناٹن سنی ہیں۔ سوچو ! کتنی  دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے کسی دوشیزہ کی زندگی کو۔


اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے ۔


 وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔


ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔۔


بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔


بدقسمتی کی انتہاہ، اسکول، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، کالج کینٹین میں بیٹھ کر ناشتہ نوش کرتے وقت ہنسی مذاق اور فحش باتیں کرتے ہیں ۔ والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔ والدین کو اس بات کی خبر بھی نہیں کہ کالج کا وقت کب سے کب تک ہے اور بچی اتنی تاخیر سے گھر کیوں آتی ہے۔


انسان کی جنسی ضرورت کا واحد اور باعزت حل نکاح ہے اوراگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا ۔


 اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔( ماٶں نے بھی اب سروں پر آنچل لینا بند کیا پھر ہم لڑکیوں سے صحیح راہ پر چلنے کی اُمید کیسے کرسکتے ہیں)

گھر میں دینی تعلیم کا ماحول ہی نہیں ہے۔ گھر کے افراد الحمد اور التحیات سے بھی لاعلم ہیں۔ رکوع اور سجدے میں کونسی تسبیح پڑھنا ہے اس کا بھی علم نہیں ہے۔

بیٹی کے رشتہ کے لٸے وظیفہ



اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔


نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔


والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں۔




Saturday, January 7, 2023

سدا بہار نغموں کی بہار


 سدا بہار نغموں کی بہار

عرفان برڈی توصیفی کمیٹی اور حالات ادبی اسٹیج کے اشتراک سے شاندار نغموں  کا پروگرام
نٸے اور پرانے فلمی گیتوں کا سنگم 



بھیونڈی : (رپورٹ: محمد حسین ساحل  )




عرفان برڈی توصیفی کمیٹی  جو گزشتہ 3 ماہ سے بھیونڈی اور  قرب جوار کے  بشمول شولاپور و مالیگاٶں جیسے شہروں میں بھی ادبی اور سماجی پروگرام متواتر منعقد کر رہی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں ادبی فضا مزید خوشگوار ہوتی جارہی ہے۔ اس پروگرامس کی یہ 60 ویں کڑی مشہور قلمکار اور ڈرامہ نویس صادق انصاری جن کا مشہور و معروف ڈرامہ  ”عشق جلے تو جلے ایسا “ نے بھی ہر تھیٹر اور ڈرامہ گاہ میں دھوم مچا دی ہے۔انھوں نے بھیونڈی شہر کے تربیت یافتہ گلوکار وسیم مرزا ، سہیل انصاری اور جیوتی تیواری کی، مرلی دھر کمپاٶنڈ ، بھیونڈی میں فلمی نغموں کی محفل سجا دی۔ ہر گلوکار اپنے فن میں ماہرتھا۔ہال میں باذوق سامعین کی بھیڑ موجود تھی۔ اس محفل میں ایک عمر رسیدہ مل مزدور ایسا تھا جس کے ذہن پر پرانی فلموں کے گیت یوں حاوی ہوگٸے کہ وہ  گلو کار سہیل انصاری کو لپک کر گلے لگالیا اور بولا ” پرانی یادیں تازہ ہوٸیں “
اس پروگرام کہ کنوینر آمین خان ، مہمانانِ خصوصی میں مجیب خان      ( صدر آ ٸیڈیا، ممبٸی  ) اور عرفان برڈی ( صدر ایکٹ، بھیونڈی ) ڈاٸس پر جلوہ افروز تھے۔ اس کے علاوہ اس گیتوں کی محفل میں  توصیفی کمیٹی کے فعال ممبرس ڈاکٹر نور خان ، سوشل ورکر اور محب اُردو سمیر بوبڑے،  معروف شاعر مرحوم زیڈ عابد کے فرزند  شہر یار مومن ،  ٹیچر نعیم شیخ اور اُردو کے مشہور و معروف شاعر اور مترجم محمد حسین ساحل بھی موجود تھے۔



مجیب خان نے اپنی پُر اثر تقریر میں کہا کہ صادق انصاری نے یہ پروگرام منعقد کرنے سے قبل توصیفی کمیٹی کو ہر زاویہ سے دیکھا ، پرکھا اور ٹٹولا کہ یہ کمیٹی تو کامیابی پر کامیابی حاصل کرتی جارہی ہے اور اس کامیاب کمیٹی کے کاررواں میں شامل نہ ہونا اور یہ کمیٹی جو اپنی تاریخ مرتب کرنے جارہی ہے اس کا حصہ نہ ہونا ایک ایسی غلطی جس کی تلافی کے لیے نہ کوٸی سجدہ سہو ہے اور نہ کوٸی توبہ ہے، کافی سوچ و فکر کے بعد اس کامیاب پروگرام کو انعقاد کیا گیا۔
 



مجیب خان صاحب کی باوں کا جواب
 دیتے ہوئے صادق انصاری نے کہا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ والدہ ماجدہ کی طبیعت کی ناسازی کے چلتے پروگرام پیش کرنے میں تاخیر ہوئی۔


 
عرفان برڈی نے اپنے منفرد لب و لہجہ میں توصیفی کمیٹی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوٸے صادق انصاری کی اس کوشش کی تعریف کی اور کہا کہ میں چاہتا  تھا کہ صادق انصاری ” سفیر شہر “ میگزین کے پورے صفحہ پر کسی پروگرام کو لے کر چھا جاٸے۔




صادق انصاری اور آمین خان نے مہمانان  اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور  کامیاب پروگرام کے  اختتام کا اعلان کیا۔





اس پروگرام کی کامیابی میں صادق انصاری کے شاگردوں کا بڑا ہاتھ ہے۔
مہمانان کی خدمت میں گلدستہ پیش کیے گٸے۔









تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا 
زمیں  سے  چاند  تلک  کتنا  فاصلہ ہوگا


دادی ماں کے نسخے

 محمد حسین ساحل، ممبئی ۔ " دادی ماں کے نسخے "                           مجیب خان بھیونڈی اسٹیج پر کافی عرصے بعد "مجیب خان کا ...