محمد حسین ساحل
ممبٸی
*جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ کچھ بھی کام نہ آئے گا،*
• آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،
• اور اس دنیا کے سب کام کاج جاری رہیں گے،
• آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا،
• آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائے گا،
• اور آپ کو اس مال کا حساب دینا ہوگا،
• موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ نام ہوگا،
• لوگ کہیں گے کہ dead body کہاں ہے؟
• جب وہ جنازہ پڑھنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ جنازہ لائیں،
• جب دفن کرنا شروع کریں گے تو کہیں گے کہ میت کو قریب کر دیں،
• آپ کا نام ہرگز نہ لیا جائے گا،
• مال، حسب و نسب، منصب اور اولاد کے دھوکے میں نہ آئیں۔
• یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں وہ کس قدر عظیم ہے،
• آپ پر غم کرنے والوں کی تین اقسام ہوں گی:
*(1)۔* جو لوگ آپ کو سرسری طور پر جانتے ہیں وہ کہیں گے ہائے مسکین! اللہ اس پر رحم کرے۔
*(2)۔* آپ کے دوست چند گھڑیاں یا چند دن غم کریں گے پھر وہ اپنی باتوں اور ہنسی مذاق کی طرف لوٹ جائیں گے۔
*(3)۔* آپ کے گھر کے افراد کا غم گہرا ہوگا، وہ کچھ ہفتے، کچھ مہینے یا ایک سال تک غم کریں گے اور اس کے بعد وہ آپ کو یاداشتوں کی ٹوکری میں ڈال دیں گے،
• لوگوں کے درمیان آپ کی کہانی کا اختتام ہو جائے گا اور آپ کی حقیقی کہانی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت ہے۔
• آپ سے زائل ہوجائے گا آپ کا:
*(1)۔* حسن،
*(2)۔* مال،
*(3)۔* صحت،
*(4)۔* اولاد،
*(5)۔* آپ اپنے مکانوں اور محلات سے دور ہو جائیں گے،
*(6)۔* شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے جدا ہو جائے گی،
• آپ کے ساتھ صرف آپ کا عمل باقی رہ جائے گا۔
• *یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی قبر اور آخرت کے لیے ابھی سے کیا تیاری کی ہے؟*
• یہ وہ حقیقت ہے جو غور و فکر کی محتاج ہے اس لیے آپ اس کی طرف توجہ کریں:
*(1)۔* فرائض،
*(2)۔* نوافل،
*(3)۔* پوشیدہ صدقہ،
*(4)۔* نیک اعمال،
*(5)۔* تہجد کی نماز،
*(6)۔* اور اچھے اخلاق کی طرف،
• شاید کہ نجات ہو جائے!
• مرنے والے کو اگر دنیا میں واپس لوٹایا جائے تو وہ صدقہ کرنے کو ترجیح دے گا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: *رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ ...*(المنافقون:10) اے میرے رب ! تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔
• وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں نماز ادا کر لوں یا میں روزہ رکھ لوں یا میں حج اور عمرہ کرلوں۔
• علماء کہتے ہیں کہ میت صرف صدقے کا ذکر اس لیے کرتی ہے کیونکہ وہ اپنی موت کے بعد اس کے عظیم اثرات دیکھتی ہے لہذا زیادہ سے زیادہ صدقات و خیرات کریں۔
• اور بہترین چیز جس کا آپ ابھی صدقہ کر سکتے ہیں وہ آپ کے وقت میں سے دس سیکنڈ ہیں۔ آپ خیر خواہی اور اخلاص کی نیت کے ساتھ اس تحریر کو دوسروں تک پہنچائیں کیونکہ اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔
• اگر آپ اس تحریر کے ذریعے لوگوں کو یاد دہانی کروانے کی کوشش کریں گے تو قیامت کے دن اسے اپنے ترازو میں پائیں گے:
*وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ*
(الذاريات:55)
اور نصیحت کیجیے، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔۔
بھیونڈی : کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو اور عرفان برڈی توصیفی کمیٹی کے اشتراک سے بوبیرے ہال ، بھیونڈی میں اجتماعی شادی کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ نکاح سے قبل عرفان برڈی نے اجتماعی شادی کی غرض و غاٸیت پر روشنی ڈالتے ہوٸے کہا کہ نکاح کروا کر سماج کی حرام کاموں سے روک تھام کرنا ہے اور انھیں حلال کاموں پر آمادہ کرنا۔
سابق کارپوریٹر بابا بہاؤالدین نے اپنی تقریر میں کہا اجتماعی شادی کے انعقاد میں متفرق ممبران نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ نکاح کا اسٹیج سجایا ہے۔اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ان ممبران کو اس کا بہترین اجر عطا کرے۔
ڈاکٹر یحیحٰی قاضی نے اپنی پُرجوش اور پُر مغز تقریر میں کہا کہ دلہے اور اس کے گھر والوں نے دلہن سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے کہ دلہن اپنے اہل و اعیال کو چھوڑ کر دُلہے کے گھر آتی ہے۔
قاضی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلا نکاح آدم علیہ السلام اور بنت حوّا کا جنت الفردوس میں کیا تھا۔ قاضی صاحب نے دلہا دلہن کو بھرپور دعاٶں سے نوازا اور اجتماعی شادی کے تمام منتظمین کو بھی دعاٶں سے نوازا۔
دلہا اور دلہن کے نام درج ذیل ہیں :
۔ عرشین اعجاز سالوے ہمراہ ارمان سلیم شیخ،
۔ مسکان اصغر خان ہمراہ محمد مستقیم محمد نظیر انصاری
۔ مہ جبین جاوید شیخ ہمراہ نواز حمید قریشی
۔ سکینہ صمد صدیقی ہمراہ نظام الدین اکرام الدین خان
۔ سعیدہ عبدالعزیز شیخ ہمراہ سلیم حکیم شیخ
۔ مصباح شفیق شیخ ہمراہ ریٸس علی نظام الدین انصاری
۔ اقرا آصف شیخ ہمراہ زویف عبدالطیف شیخ
۔ شاھین احمداللہ شاہ ہمراہ فیصل شکیل انصاری
کمیٹی نے دلہنوں کے ساتھ جہیز کا تمام ضروری سامان بھی دیا جیسے پلنگ، الماری، کیچن کا سامان ، دلہن کے شادی کا جوڑا اور دلہن کا بناٶ سنگھار کے لیے شہر کی مشہور ومعروف بیوٹیشین کی خدمات طلب کی گٸی تھیں ، اس کے علاوہ دلہن اور دلہے کے رشتہ داروں کے طعام کا انتظام اور دلہے دلہن کو ڈھیر ساری دعاٸیں۔
تمام دلہوں کو تحفے میں ہاتھ گھڑی بھی پیش کی گٸی تاکہ انھیں وقت کا احساس ہو اور اپنی زندگی کو مزید خوشحال بنا سکیں۔
وہ سماں بھی دیکھنے جیسا تھا جب دلہن ہاتھ میں قرآن تھامے عرفان برڈی کی خدمت میں سلام پیش کرکے رخصتی لے رہی تھی گویا کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو ایک سرپرست کی طرح اپنی بیٹیوں کو رخصت کر رہا ہو اور عرفان برڈی کی آنکھوں سے اشک جاری تھے جو ہر دُلہن کو اپنی زندگی خوش و خرم گزارنے کی ہدایت بھی دے رہے تھے۔
GROUP OF TAUSEEFI COMMITTEE
اس تقریب نکاح میں توصیفی کمیٹی اور
کوکنی نسبت اینڈ میریج بیورو کے بیشتر ممبران نے شرکت کی ۔ نکاح کی تقریب ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔
ایجاب و قبول‘‘کے مخصوص الفاظ کے ذریعہ مرد وعورت کے درمیان ایک خاص قسم کا دائمی تعلق اور رشتہ قائم کرنا نکاح کہلاتا ہے، جو دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے صرف دو لفظوں کی ادائیگی سے منعقد ہوجاتا ہے۔
نکاح انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ مرد ہو یا عورت زندگی ادھوری رہتی ہے۔ جب تک کہ وہ نکاح کے بندھن میں نہ بندھ جائیں۔ یہ بڑا پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیداکیا اور اُن ہی سے اُن کا جوڑا حضرت حوا کو بنایا۔ اس طرح شوہر اور بیوی کا یہ پہلا انسانی رشتہ وجود میں آیا۔ باقی سارے رشتے ماں باپ، بیٹابیٹی، بھائی بہن و دیگر رشتے داریاں بعد میں وجود میں آئی ہیں۔
اسلامی یا شرعی نقطہ نظر سے نکاح آسان ہے مگر ہماری سوچ و فکر نے نکاح سے قبل کی تمام تر مراحل کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔
نکاح کا اوّلین مقصد ایک ایک مرد اور عورت کے اخلاق کی حفاظت اور پورے معاشرے کو بگاڑ و فساد سے بچانا ہے۔
اسلام میں نکاح سے متعلق ہر بات جب واضح کردی ہے اس کے باوجود ہماری لڑکیاں بے راہ روی کا شکار کیوں ہیں۔
سرکاری میریج رجسٹرڈ دفتر میں اگر ہم جاتے ہیں تو ان گنت مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے کے لٸے اپنا نام رجسٹر کر رہی ہیں، جس کی ان کے ماں باپ کو خبر تک نہیں : جس کی بیشمار وجوہات ہیں :
١۔ ماں باپ اپنی ٢٠ سالہ لڑکی کو چھوٹی سمجھتی ہے کہ ابھی میری لاڈلی چھوٹی ہے، ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ، ابھی کھیل کود کی عمر ہے، ابھی پڑھاٸی کرنا ہے۔ابھی تک تو ہماری شادی کی تیاری نہیں ہے۔ ابھی جہیز جمع کرنا باقی ہے وغیرہ وغیرہ
٢۔ کسی لڑکی کو رشتے کا پیغام آجاٸے تو لڑکی کے ماں باپ لڑکے والوں کو سوال کرتے ہیں :لڑکا کیا کرتا ہے ؟لڑکے والے جواب دیتے ہیں وہ نوکری کرتا ہے تو فوراً جواب ملتا ہے ہم کو نوکری والے کو نہیں دینا۔
٣۔ ایک لڑکی کو رشتہ آیا ،لڑکے والوں سے لڑکی والوں نے پوچھا لڑکا کیا کرتا ہے بولے اس کا ایکسپورٹ کا کاروبا ہے، خلیجی ممالک میں باسمتی چاول سپلاٸی کرتا ہے ، پنج وقتہ نمازی ہے۔لڑکی والے نے دوسرا سوال پوچھا اس کا مسلک کیا ہے؟ لڑکے والے نے جواب دیا اہل حدیث ہے۔نہیں نہیں اہلحدیث کو ہم لڑکی نہیں دیں گے۔۔ہم ٹناٹن سنی ہیں۔ سوچو ! کتنی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے کسی دوشیزہ کی زندگی کو۔
اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے ۔
وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔
ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔۔
بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
بدقسمتی کی انتہاہ، اسکول، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، کالج کینٹین میں بیٹھ کر ناشتہ نوش کرتے وقت ہنسی مذاق اور فحش باتیں کرتے ہیں ۔ والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔ والدین کو اس بات کی خبر بھی نہیں کہ کالج کا وقت کب سے کب تک ہے اور بچی اتنی تاخیر سے گھر کیوں آتی ہے۔
انسان کی جنسی ضرورت کا واحد اور باعزت حل نکاح ہے اوراگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا ۔
اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔( ماٶں نے بھی اب سروں پر آنچل لینا بند کیا پھر ہم لڑکیوں سے صحیح راہ پر چلنے کی اُمید کیسے کرسکتے ہیں)
گھر میں دینی تعلیم کا ماحول ہی نہیں ہے۔ گھر کے افراد الحمد اور التحیات سے بھی لاعلم ہیں۔ رکوع اور سجدے میں کونسی تسبیح پڑھنا ہے اس کا بھی علم نہیں ہے۔
اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔
نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔
والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں۔
محمد حسین ساحل، ممبئی ۔ " دادی ماں کے نسخے " مجیب خان بھیونڈی اسٹیج پر کافی عرصے بعد "مجیب خان کا ...